ابنا: فرانس پريس کے مطابق مصر کي حکمراں فوجي کونسل کے سربراہ، جنرل حسن طنطاوي نے اعلان کيا کہ فوجي کونسل انتخابات ميں کسي بھي اميدوار کي حمايت نہيں کرے گي- انہوں نے يہ بيان ايسي حالت ميں ديا ہے کہ سابق ڈکٹيٹر حسني مبارک کے دست راست عمر سليمان کے صدارتي اميدوار بننے کے بعد بہت سے حلقوں نے کہا ہے کہ عمر سليمان کو فوجي کونسل کي حمايت حاصل ہے -
مصر کي سرکاري خبررساں ايجنسي منا نے بھي جنرل حسن طنطاوي کے حوالے سے اعلان کيا ہے کہ فوج کسي بھي صدارتي اميدوار کي حمايت نہيں کرے گي اور غير جانبدار رہے گي - مصر کے صدارتي اليکشن کے لئے تيئس اميدواروں نے کاغذات نامزدگي جمع کرائے ہيں -
معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کے کے دست راست عمر سليمان نے جن کے اسرائيل کے ساتھ بہت قريبي تعلقات ہيں اور جنہوں نے انقلابيوں کي سرکوبي ميں نماياں کردار ادا کيا ہے ، آخري لمحات ميں کاغذات نامزدگي جمع کراکے يہ تشويش پيدا کردي ہے کہ مصر کے انقلاب کو سبوتاژ کرنے کي سازش پر عمل ہورہا ہے -
معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک نے اپني حکومت کے آخري ايام ميں عمر سليمان کو جو اس وقت مصر کي انٹيليجنس کے چيف اور ڈکٹيٹر کے معتمد خاص تھے ، اپنا نائب مقرر کيا تھا اور عمر سليمان نے انقلابيوں کي انتہائي بے دردي سے سرکوبي کي تھي۔
........
/169